سیلاب متاثرین 311

مر جائینگے خواتین کو کیمپ نہیں بھیجیں گے، سیلاب متاثرین

بستی احمد دین (اے ایف پی) پنجاب کے ایک گائوں کے سیلاب متاثرین کا کہنا ہے کہ مر جائینگے لیکن خواتین کو کیمپ نہیں بھیجیںگے۔

غیرملکی خبررساںادارے کے مطابق موسلا دھار بارش کے بعد سیلابی پانی میں گھرے ایک چھوٹے سے پاکستانی گاؤں بستی احمد دین کے 400 رہائشیوں کو بھوک اور بیماری کا سامنا ہے-

لیکن انہوں نے انخلاء کی اپیل کورد کردیا ہے، رہائشیوں نے غیرملکی خبررساںادارے کو بتایا کہ ریلیف کیمپ کے لیے روانہ ہونے کا مطلب گاؤں کی خواتین اپنے خاندانوں سے باہر مردوں کے ساتھ گھل مل جائیں گی اور یہ عمل ان کی’’عزت‘‘ کو پامال کرے گا۔

17 سالہ شیریں بی بی سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ خشک زمین پر کیمپ میں جانا پسند کریں گی تو انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ گاؤں کے بزرگوں پر منحصر ہے، بستی احمد دین کی خواتین کو کچھ کہنے کا اختیار نہیں-

پنجاب کے علاقے روجھان میں واقع بستی احمد دین کے 90 گھروں میں سے آدھے سے زیادہ تباہ ہو گئے ہیں-

کپاس کی فصلیں جو جون میں بارش شروع ہونےسے قبل گاؤں کے ارد گرد موجود تھیںاب سیلابی پانی میں سڑ رہی ہیں اور کچی سڑک جو کبھی قریبی شہر سےزمینی راستہ جوڑ کر رکھتی تھی تین میٹر (10 فٹ) سیلابی پانی میں غائب ہے۔

بستی احمد دین کے خاندانوں کے پاس تشویشناک حد تک خوراک کی کم مقدار رہ گئی ہے اور انہوں نے بارش کے بعد جو بھی گندم اور اناج بچایا ہے اسے جمع کرنے اور راشن کرنے کا فیصلہ کیا ہے-

امدادی سامان چھوڑنے کے لیے گاؤں آنے والے متعدد رضاکاروں نے رہائشیوں سے حفاظت کے لیے نکل جانے کی التجا کی جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں